ڈیٹا بینکوں سے موصول حقیقی مالی ادائیگیوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ،اسٹیٹ بینک کراچی:اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ ادارہ شماریات کی جانب سے حالیہ تجارتی اعداد و شمار میں کی گئی ترامیم سے اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ تجارتی یا کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار پر نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔مرکزی بینک نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کا تجارتی ڈیٹا بینکوں سے موصول ہونے والی حقیقی مالی ادائیگیوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے ، اس لیے پی بی ایس کے اعداد و شمار میں ردوبدل کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کے نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔ترجمان کے مطابق ادارہ شماریات کا تجارتی ڈیٹا اشیاء کی ترسیل پر مبنی ہوتا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کا ڈیٹا ادائیگی کے عمل پر منحصر ہوتا ہے ، اس لیے دونوں اداروں کے اعداد و شمار میں تکنیکی فرق پایا جانا فطری ہے ۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس اور تجارتی اعداد و شمار میں معمول کے مطابق معمولی نوعیت کی ترامیم عمل میں آسکتی ہیں، تاہم کوئی بڑی تبدیلی یا ترمیم درکار نہیں ہے ۔
اعداد و شمار میں ترمیم کاتجارتی یا کرنٹ اکاؤنٹ پراثرنہیں پڑیگا

Leave a Reply