Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
صمود فلوٹیلا میں شامل سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 131 افراد اسرائیل کی قید سے رہا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

صمود فلوٹیلا میں شامل سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 131 افراد اسرائیل کی قید سے رہا

اسلام آباد:اسرائیلی فورسز نے صمود فلوٹیلا میں شامل جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سابق سینیٹر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت عمان میں پاکستان کے سفارتخانے میں محفوظ اور صحت مند ہیں، سفارتخانہ ان کی خواہشات اور سہولت کے مطابق وطن واپسی میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔نائب وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ میں ان تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس معاملے میں فعال کردار ادا کیا اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ تعاون کیا۔واضح رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد صمود فلوٹیلا کے اس قافلے میں شامل تھے جو غزہ کے محصور عوام تک انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید ارکان کو ڈی پورٹ 131 کردیا جس کے بعد ان لوگوں کو اردن پہنچا دیا گیا ہے۔اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مشترکہ انتظامات کے بعد تمام ڈی پورٹ افراد حسین پل کے ذریعے اردن میں داخل ہوئے تاکہ ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ترجمان کے مطابق اردن پہنچے والے افراد میں بحرین، تیونس، الجیریا، عمان، کویت، لیبیا، پاکستان، ترکیہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کولمبیا، جمہوریہ چیک، جاپان، میکسیکو، نیوزی لینڈ، سربیا، جنوبی افریقا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکا اور یوراگوئے کے شہری شامل ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *