Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو جدید میزائلوں کی فراہمی کے معاہدے میں شامل کرلیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو جدید میزائلوں کی فراہمی کے معاہدے میں شامل کرلیا

معاہدے میں ایف 16طیاروں میں استعمال ہونیوالے ایم ریم میزائلز کی تیاری و سپورٹ شامل، پاکستان نے انہی سے سوئفٹ ریٹارٹ میں 2بھارتی طیارے گرائے تھے اڑھائی ارب ڈالر کے معاہدے میں 4کروڑ 16لاکھ ڈالر مالیت کی توسیع،سعودی جنگی طیاروں ایف-15کے کمیونی کیشن سسٹمز کی اپ گریڈیشن کیلئے الگ سے معاہدہ منظور
واشنگٹن،اسلام آباد:امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو جدید میزائلوں کی فراہمی کے معاہدے میں شامل کرلیا، امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ پرجاری بیان کے مطابق سعودی جنگی طیاروں کے کمیونی کیشن سسٹمز کی اپ گریڈیشن کیلئے بھی الگ معاہدہ منظور کیا گیا ہے ۔محکمے کے 30 ستمبر کو جاری اعلامیے کے مطابق امریکی دفاعی کمپنی رے تھیون میزائلز اینڈ ڈیفنس کو 4 کروڑ 16 لاکھ 80 ہزار ڈالر مالیت کا معاہدہ دیا گیا ہے تاکہ جدید درمیانی فاصلے کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ایم ریم(AMRAAM) کی تیاری اور سپورٹ فراہم کی جا سکے ۔یہ امریکی میزائل پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایف-16 طیاروں پر نصب کیے جاتے ہیں۔ فروری 2019 میں کیے گئے پاک فضائیہ کے آپریشن ‘سوئفٹ ریٹارٹ’ کے دوران یہی میزائل استعمال کیے گئے تھے جب بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے تھے جو کشمیر کے اوپر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے ۔حالیہ فیصلہ دراصل رے تھیون کو پہلے سے دئیے گئے معاہدے میں فِرم فکسڈ پرائس ترمیم کی منظوری ہے ، اس ترمیم کے بعد معاہدے کی مجموعی مالیت 2 ارب 47کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔یہ جدید ہتھیار لڑاکا طیاروں کو دور فاصلے سے دشمن طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے ۔ کام ریاست ایریزونا کے شہر ٹُکسن میں کیا جائے گا اور توقع ہے کہ 30 مئی 2030 تک مکمل ہو جائے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ میزائل سسٹم غیر ملکی عسکری فروخت پروگرام کے تحت کئی دوست اور اتحادی ممالک کو فراہم کیا جا رہا ہے ، جن میں پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، آسٹریلیا، جاپان، ترکیہ، اسرائیل، جنوبی کوریا، قطر، اومان، بحرین، اٹلی، سپین، ناروے ، سویڈن، فن لینڈ، کینیڈا، نیدرلینڈز، سنگاپور، چیک ریپبلک ، رومانیہ،یونان، سوئٹزرلینڈ،پرتگال،سلوواکیا، ڈنمارک، بیلجیئم، کویت، تائیوان، لیتھوانیا،بلغاریہ، ہنگری شامل ہیں۔بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر ملک کو کتنے میزائل ملیں گے اور ان کی ترسیل کب شروع ہوگی۔ عام طور پر یہ تفصیلات بعد میں حکومتوں کے درمیان کیے جانے والے معاہدوں کے تحت جاری کی جاتی ہیں۔پاکستان کے ایف-16 طیاروں اور سعودی عرب کے ایف-15 طیاروں میں یہ میزائل استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ دفاع کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ایک علیحدہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کے ایف-15 لڑاکا طیاروں پر نصب Link-16 کمیونی کیشن سسٹم کو جدید بنانے کے لیے 2 کروڑ 41 لاکھ 70 ہزار ڈالر کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے ۔اس منصوبے پر کام سعودی عرب میں مارچ 2031 تک جاری رہے گا۔ماہرین کے مطابق یہ دونوں معاہدے امریکا کے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کا حصہ ہیں۔ایم ریم میزائل AMRAAM)گزشتہ تین دہائیوں سے امریکی اور اتحادی فضائی دفاعی نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ، جو مختلف ماڈلز میں 30 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔خیال رہے 7 مئی کے معاہدے میں پاکستان کو خریدار ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔پاکستان نے جنوری 2007 میں 700 اے ایم ریم میزائل خریدے تھے ، جو اُس وقت اس ہتھیار کے لیے دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی خریداری تھی۔امریکی دفاعی کمپنی کی جانب سے میزائلوں کی فروخت کے فیصلے کی صورت میں یہ پیش رفت پاکستان اور امریکا کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے ۔حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں واضح گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے ، یہ مثبت اشارے ، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے ، اب ایک مضبوط اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔داعش خراسان کے ایک اہم رکن کی گرفتاری میں پاکستان کے تعاون کا امریکی اعتراف ہو یا جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کو روکنے کا دعویٰ، پاکستان کا نام حالیہ برسوں میں کسی بھی سابق امریکی صدر کے مقابلے میں زیادہ بار صدر کے روزمرہ بیانات میں آیا ہے ۔ٹیرف مذاکرات میں بڑی رعایت حاصل کرنے ، تیل و معدنی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری کی دلچسپی بڑھنے اور کرنسی مارکیٹ میں ڈیجیٹل اثاثوں و کرپٹو کرنسی کے لیے کھلے رویے کا اشارہ دینے کے بعد پاکستان بظاہر جنوبی ایشیا میں ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *