کراچی:سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں سیاسی استحکام بھی ممکن نہیں۔پاکستان کنسرنڈ سٹیزنز اور پی ایم اے ہاؤس کے زیرِ اہتمام شہرِقائد میں اہم سیمینار کا انعقاد ہوا،سیمینار میں سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک کے سیاسی عزم، ایجنڈے اور طرزِ حکمرانی پر گفتگو کی۔اِس موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کا میرا صحت کے شعبے سے گہرا تعلق ہے، آپ کا حصہ ملکی ترقی کے لیے قابلِ تعریف ہے، آج معیشت پر بات نہیں کرنی تھی، مگر ہر مسئلہ معیشت سے جڑا ہے، جس ملک میں رول آف لاء ہوگا وہاں معیشت بہتر ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں سیاسی استحکام بھی ممکن نہیں، آج ملک میں سیاستدانوں کی تعداد بڑھ چکی ہے، جو کرپٹ انسان بات مان لے ہم اُسے سیاست میں لے آتے ہیں، ایوانوں میں بیٹھے زیادہ تر لوگ خدمت کے لیے نہیں آئے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں، تعلیم، تجربہ اور سیاسی عمل کا حصہ ہونا، ملک میں سیاستدانوں کا معیار مسلسل گر رہا ہے، اگر قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ بات صاحبِ اقتدار کو سمجھنی ہوگی، وقت کے ساتھ ہم نے بہت کچھ بدلتے دیکھا ہے، ہمارے ملک کا آئین وسیع ہے، ہر مسئلہ زیرِ بحث آتا ہے، صوبوں کے وفاق سے تعلقات کا نظام آئین میں واضح ہے
جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں سیاسی استحکام بھی ممکن نہیں: شاہد خاقان عباسی

Leave a Reply