کراچی:ملک میں جاری سیاسی ہلچل ، امن و امان کی خراب صورتحال ، پاک افغان کشیدگی ، امریکا کا چین پر100فیصد ٹیرف عائد کرنا اور آئی ایم ایف سے ملنے والی قسط میں مسلسل تاخیر سٹاک مارکیٹ میں جاری مندی کی لہر کو مزید بڑھاوا دے گئی۔ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز 1694 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 61 ہزار 403 سے ہوا ،بعدازاں سیاسی بے یقینی کی کیفیت سے پریشان مالیاتی اداروں نے حصص کی فروخت کوترجیح دی ، دوران ٹریڈنگ 100انڈیکس 5420پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 61 ہزار کی نفسیاتی حدسے گرتا گرتا 1 لاکھ 60 ہزار ، 1 لاکھ 59 ہزار ،1 لاکھ 58 ہزار اور 1 لاکھ 57 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد تک ٹریڈ ہوا ،یعنی 100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ شدید گراوٹ کے باعث یکے بعد دیگرے چار نفسیاتی حدوں کو کھو بیٹھا۔کاروبار کے اختتام پر 100انڈیکس 4 ہزار 654 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 58 ہزار 443 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 100 انڈیکس مسلسل چھ ٹریڈنگ سیشن میں شدید مندی کے زیر اثر 10 ہزار سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ ریکارڈ کراچکا ہے ۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 1444 پوائنٹس کی کمی سے 48740 پوائنٹس اور آل شیئرز انڈیکس 2790 پوائنٹس کی کمی سے 48740 پوائنٹس پر بند ہوا ۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 534ارب روپے کا منافع ہوا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم گھٹ کر 18ہزار 376 ارب روپے رہ گیا۔مجموعی طور پر 482 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جس میں سے 74 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ، 375 میں کمی اور 33 میں استحکام رہا۔گزشتہ روز1 ارب 36 کروڑ 57 لاکھ 3 ہزار 374 روپے مالیت شیئرز کے سودے 62 ارب 46 کروڑ 56 لاکھ 7ہزار 12 روپے میں طے پائے ۔ اسٹاک ایکسپرٹ سلمان نقوی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والی قسط پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جاری بڑی مندی کو پھر سے بہتری کی جانب گامزن کرسکتی ہے جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کاروبار کا اہم جز ہے ۔
اسٹاک ایکسچینج میں 4657 پوائنٹس کی شدید مندی،534 ارب خسارہ حصص کی فروخت ترجیح ، سیاسی ہلچل، پاک افغان کشیدگی اور آئی ایم ایف قسط میں تاخیرمندی کی وجہ قرار 100انڈیکس 1 لاکھ 58 ہزار 443 پربند،6 ٹریٹنگ سیشنز میں 10 ہزار پوائنٹس سے زائدکی گراوٹ ریکارڈ

Leave a Reply