Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اداروں پر اعتماد نہیں، مدارس حوالے نہیں کرینگے :فضل الرحمن آزمانے کی کوشش کی تو پھر ہم آزمائش بن جائیں گے ، سب کیلئے مشکل ہوگی مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے ،دھوکا برداشت نہیں – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اداروں پر اعتماد نہیں، مدارس حوالے نہیں کرینگے :فضل الرحمن آزمانے کی کوشش کی تو پھر ہم آزمائش بن جائیں گے ، سب کیلئے مشکل ہوگی مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے ،دھوکا برداشت نہیں

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا مدارس دینِ اسلام ، قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان جیسی نعمت کے محافظ ہیں،ہمیں اداروں پر اعتماد نہیں، مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا،اگر ہمیں آزمانے کی کوشش کی گئی تو پھر ہم آزمائش بن جائیں گے جس سے سب کیلئے مشکل ہوگی۔ راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پوری دنیا کی حکمرانی اگرچہ امریکا کے ہاتھ میں ہے لیکن ایمان کی طاقت اس کے پاس نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایک طرف پی آئی اے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مدارس پر قبضے کی خواہش کی جا رہی ہے ، جو کسی صورت قبول نہیں، علامہ شبیر احمد عثمانی کو بھی انگریز نے اپنے سامنے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا۔ مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء متفق ہیں۔ ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے ، مگر کسی قسم کا دھوکا برداشت نہیں کیا جائے گا۔تقریب کے دوران نعرے بازی کرنے والے طلباء کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا اگر آپ نعرے لگانے کی بجائے کام کر رہے ہوتے تو پنجاب میں سب سے زیادہ نشستیں جیت جاتے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *