Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
امریکی جریدے کا ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارتکاری کا اعتراف – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

امریکی جریدے کا ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارتکاری کا اعتراف

اسلام آباد: ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارت کاری مرکز نگاہ بن گئی، امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کی علاقائی اہمیت اور مؤثر سفارتکاری کا اعتراف کر لیا۔دی نیشنل انٹرسٹ نے علاقائی تنازعات کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی سفارتکاری کو اہم قرار دیا، جریدے کے مطابق وینزویلا کی صورتحال کے بعد واشنگٹن کے سخت گیر حلقوں میں ایران کو اگلا ہدف بنانے کا تصور مضبوط ہوا ہے۔جریدے کے مطابق صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی صورت میں امریکا مداخلت کرے گا، تاہم اس کی نوعیت واضح نہیں کی، ایران کے ساتھ وینزویلا جیسا رویہ نہ صرف ناکام تصور ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک سنگین کثیرالجہتی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق ایران کیخلاف کارروائی کی مخالفت صرف خلیج فارس تک محدود نہیں، یہ پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہے، جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اہم شراکت دار پاکستان بھی ایران کیخلاف کسی قسم کی کارروائی کا حامی نہیں۔امریکی جریدے کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں، پاکستان پر تشدد طریقے سے ایران میں حکومتی نظام کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے انتشاربڑھنے کاخدشہ ہے۔دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اس صورتحال سے دہشتگردوں کو تقویت ملے گی جو پاک ایران مشترکہ سرحدپردونوں اطراف میں سرگرم ہیں، ایران میں رجیم چینج کے بعد فتنہ الہندوستان کو وسیع پناہ گاہ اور ہتھیار میسر آسکتے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *