Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اسلام کی بقاآزمائشوں میں ہے:فضل الرحمٰن:مدارس کو لاوارث نہ سمجھیں:تقی عثمانی مدارس پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں :سربراہ جے یو آئی :اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں:صدر وفاق المدارس خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینگے :قاری حنیف جالندھری،مولانا امجدخان ودیگر کا بھی جا معہ اشرفیہ میں خطاب ایران پر ممکنہ حملہ،ٹرمپ کو بریفنگ:اسرائیل میں ہائی الرٹ کارروائی کی تو دونوں ملکوں کے فوجی اڈے ہمارا جائز ہدف ہونگے:ایرانی حکام ٹرمپ کا ایرانی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت مختلف آپشنز پر غور:امریکی میڈیا،فوجی حملوں کے منفی اثرات کے خدشات،آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز ،کل امریکی قومی سلامتی کا اجلاس ہو گا احتجاج کا تیسرا ہفتہ، 500 مظاہرین ہلاک ،10 ہزار گرفتار:امریکی تنظیم، 114 سرکاری اہلکار مارے گئے ، ایرانی میڈیا ، دہشتگرد ملک میں داخل: صدرپزشکیان،فسادات خدا سے جنگ :پراسیکیوٹر – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اسلام کی بقاآزمائشوں میں ہے:فضل الرحمٰن:مدارس کو لاوارث نہ سمجھیں:تقی عثمانی مدارس پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں :سربراہ جے یو آئی :اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں:صدر وفاق المدارس خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینگے :قاری حنیف جالندھری،مولانا امجدخان ودیگر کا بھی جا معہ اشرفیہ میں خطاب ایران پر ممکنہ حملہ،ٹرمپ کو بریفنگ:اسرائیل میں ہائی الرٹ کارروائی کی تو دونوں ملکوں کے فوجی اڈے ہمارا جائز ہدف ہونگے:ایرانی حکام ٹرمپ کا ایرانی فورسز کو نشانہ بنانے سمیت مختلف آپشنز پر غور:امریکی میڈیا،فوجی حملوں کے منفی اثرات کے خدشات،آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز ،کل امریکی قومی سلامتی کا اجلاس ہو گا احتجاج کا تیسرا ہفتہ، 500 مظاہرین ہلاک ،10 ہزار گرفتار:امریکی تنظیم، 114 سرکاری اہلکار مارے گئے ، ایرانی میڈیا ، دہشتگرد ملک میں داخل: صدرپزشکیان،فسادات خدا سے جنگ :پراسیکیوٹر

واشنگٹن،تہران : امریکی صدر ٹرمپ ایران میں جاری خونریز مظاہروں کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران میں مداخلت سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں تہران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ فوجی حملے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے ایرانی عوام حکومت کے حق میں متحد ہو سکتے ہیں یا ایران جوابی فوجی کارروائی کر سکتا ہے ۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جو براہِ راست فوجی حملوں سے کم درجے کے ہوں۔ ان آپشنز میں ایرانی فوج اور حکومتی اداروں کے خلاف سائبر کارروائیاں شامل ہیں، جن کا مقصد مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومتی شخصیات اور توانائی و بینکاری جیسے اہم معاشی شعبوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ توڑنے کے لیے اسٹارلنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے ، تاکہ مظاہرین عالمی رابطے میں رہ سکیں۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے ایران سے متعلق مختلف آپشنز کی تیاری میں متعدد امریکی ادارے شامل ہیں، جبکہ آئندہ ہفتے باضابطہ بریفنگز متوقع ہیں۔منگل کو صدر ٹرمپ اعلیٰ قومی سلامتی حکام کا اجلاس بلا کر آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے ۔امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ۔ امریکا ایران کی مدد کے لیے تیار ہے ۔ٹرمپ نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی اور انہیں قتل کیا جاتا رہا تو امریکا ان کی حمایت کے لیے آئے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے ۔ اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے 11 جنوری کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اس امکان کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے مداخلت کر سکتا ہے ۔ادھر وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 10 جنوری کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی حملہ کرتا ہے تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز جائز اہداف تصور کیے جائیں گے ۔پارلیمان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ واضح اور عملی خطرات کی بنیاد پر پیشگی اقدام بھی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ وہ غلط اندازے نہ لگائیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت چار محاذوں اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف برسرِپیکار ہے ۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا تھا۔ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *