Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
وزیراعظم بھی غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں: سپریم کورٹ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

وزیراعظم بھی غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے او جی ڈی سی ایل بھرتی کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیراعظم بھی غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں۔سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی، عدالت نے وکلا کو کیس کی تیاری کی ہدایت کر دی۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ سابق وزیر انور سیف اللہ نے چیئرمین او جی سی ایل کو تقرری کے خطوط بھیجنے کا کہا تھا، وکیل نیب کے مطابق بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار کے ذریعے ہونا چاہئے تھا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بادشاہ تو نہیں، بس آرڈر کر دیا، ہر سرکاری ادارے میں اوور سٹاف بھرتیاں ہیں، جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزرا سے عوام نوکریاں تو مانگتے ہیں۔نیب کے وکیل نے مزید بتایا کہ او جی ڈی سی ایل میں اوور سٹاف بھرتیاں کی گئیں اور وزیر کے پرنسپل سٹاف آفیسر نے لکھا تھا کہ نوکریوں کے لیے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں ہیں، نیب وکیل نے جواب دیا کہ اگر سول سرونٹس احکامات ماننے سے انکار کریں تو انہیں عذاب کا سامنا ہو سکتا ہے۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی ، اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اس وقت بھرتیاں کی گئیں جب احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ سزا کا ایک داغ تو ہے اور پوچھا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کر لی ہے۔بعدازاں نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ نظرثانی خارج کرکے اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *