کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ نے کئی سوال کھڑے کر دیئے۔آگ عمارت کے ایک طرف لگی، دوسری طرف سے لوگوں کو ریسکیو کیوں نہ کیا گیا؟ لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے داخلی دروازے کیوں نہیں توڑے گئے؟۔سانحہ گل پلازہ، کمشنر کراچی کی سب اچھا کی رپورٹ، ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا نہ ہی خامیوں کی نشاندہی کی گئی، کیا ریسکیو ٹیموں کی جانب سے عمارت کے شیشے یا داخلی دروازے بروقت نہ توڑنا ایک بڑی تکنیکی غلطی نہیں؟۔کیا اگر آکسیجن کی کمی اور دھوئیں کے بادلوں کو کم کرنے کے لیے وینٹی لیشن کا راستہ بنایا جاتا تو جانی نقصان کم نہیں ہوتا؟، کیا آگ بجھانے والے عملے کے پاس آکسیجن سلنڈرز، تھرمل کیمرے اور دھواں نکالنے والے اموک ایجیکٹرز کی کمی تھی؟ کیا اسی وجہ سے فائر بریگیڈ عملہ عمارت کے اندر داخل ہونے سے کتراتا رہا؟۔اگر آگ ایک طرف لگی تھی تو دوسری سمت سے لوگوں کو نکالنے کے لیے ہائیڈرالک لفٹس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا پولیس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور انتظامیہ کے درمیان کوئی مشترکہ کمانڈ سینٹر موجود نہیں تھا۔

Leave a Reply