Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی ہونے کا امکان، نیپرا میں سماعت مکمل – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی ہونے کا امکان، نیپرا میں سماعت مکمل

اسلام آباد: ملک بھر کیلئے بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے، نیپرا میں سماعت مکمل کر لی گئی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں کراچی سمیت ملک بھر کیلئے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 78 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جو بعد میں جاری کیا جائے گا۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جنوری کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی تھی اور ایک روپے 78 پیسے فی یونٹ اضافے کی استدعا کی تھی۔دوران سماعت بریفنگ دی گئی کہ جنوری میں 8 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی گئی، جنوری میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 10 روپے 39 پیسے تھا تاہم اصل فی یونٹ فیول لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی۔سی پی پی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پن بجلی سے کم پیداوار اور کھپت زیادہ رہنے کے باعث قیمت میں اضافہ ہوا۔ممبر نیپرا پنجاب آمنہ احمد نے سماعت کے دوران کہا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، ہمیں تو بہتری کی امید تھی مگر چیزیں الٹی طرف جا رہی ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنوری میں فرنس آئل والے پلانٹس کیوں چلائے گئے؟ جس پر حکام نے جواب دیا کہ پیک ڈیمانڈ بڑھنے سے طلب پوری کرنے کیلئے فرنس آئل والے پلانٹس چلائے گئے۔ممبر نیپرا مقصود انور نے کہا کہ جو اضافہ مانگا گیا ہے اس کی وجہ فرنس آئل کا استعمال ہے، آمنہ احمد نے ایک بار پھر کہا کہ ابھی تک جو سوچا ہوا تھا چیزیں اس کے الٹ ہی جا رہی ہیں۔واضح رہے کہ سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق حکومتی پالیسی گائیڈلائنز کے تحت اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *