Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پاکستان کا اپنے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ، حکام کی تصدیق – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پاکستان کا اپنے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ، حکام کی تصدیق

اسلام آباد: علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنے آئل ٹینکرز کی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے معاملے پر ایران سے رابطہ کیا ہے، جس کی تصدیق سینئر حکام نے کی ہے۔سینئر حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام ایران سے رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت حاصل کی جا سکے۔حکام کے مطابق اگر تہران کے ساتھ اس حوالے سے کوئی مفاہمت طے پا جاتی ہے تو اس وقت اجازت کے منتظر پاکستان کے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔ذرائع کے مطابق کم از کم دو پاکستانی جہاز اجازت ملتے ہی روانگی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور دیگر عالمی سمندری راستوں سے ملاتی ہے، اور عالمی توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت نے بھی اپنے جہازوں کی گزرگاہ کے حوالے سے ایران سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد بھارتی ایل این جی کارگو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی۔سینئر حکام کے مطابق معمول کے حالات میں پاکستان کی تیل بردار کھیپیں آبنائے ہرمز کے راستے چار دن میں ملک پہنچ جاتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث متبادل طور پر بحیرہ احمر کے راستے آنے والی کھیپوں کو پاکستان پہنچنے میں تقریباً بارہ دن لگ رہے ہیں۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں بدلتی سکیورٹی صورتحال کے باعث توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کے حوالے سے ممالک کو بڑھتے ہوئے لاجسٹک اور اسٹریٹجک چیلنجز کا سامنا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *