کراچی کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے سیاسی پارہ ہائی کررکھا ہے بار بار ملتوی ہونے کے بعد15 جنوری کو پولنگ ڈے تک کسی کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ الیکشن ہوں گے کیونکہ سندھ حکومت نے آخری وقت تک اس معاملے پر ایم کیو ایم کے اعتراضات پر الیکشن کمیشن کو دوبارہ حلقہ بندیوں کے لیے خط لکھ کر یہ درخواست کی تھی کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے جائیں۔
ایم کیو ایم نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا تھا مگر ایم کیو ایم کی سندھ ہائی کورٹ سے درخواست رد ہوئی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے بھی الیکشنز کوملتوی کرنے کی درخواستیں ردکردیں جس کے بعد مجبوراً ان انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا۔
تاہم ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں کو جواز بناکر ان انتخابات کا بائیکاٹ کردیا جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، ن لیگ، مہاجرقومی موومنٹ، جے یوآئی( ف) تحریک لبیک میدان میں مد مقابل تھیں کل246 یونین کونسلز میں سے235 پر انتخابات ہوئے11 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کے باعث الیکشن ملتوی کردیے گئے۔

Leave a Reply