کراچی: جامعہ کراچی میں گزشتہ کئی برس سے زیر التوا سلیکشن بورڈ، ایوننگ پروگرام کے اساتذہ کو 2 سال سے عدم ادائیگی اور جامعہ کو درپیش مالی مسائل کی وجہ سے اساتذہ کی ہڑتال تیسرے روز میں داخل ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں تیسرے روز بھی تدریسی معطل رہی جبکہ اسٹاف کلب میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کراچی کے مختلف اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان، طلبہ ایسوسی ایشنز اور ملازمین کے وفود نے جامعہ کراچی کی انجمنِ اساتذہ (سپلا) سے ملاقات میں اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر انجمنِ اساتذہ کے نائب صدر غفران عالم نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شرکا کو آگاہ کیا کہ کئی برس سے التوا کا شکار سلیکشن بورڈ اور دیگر مالی مسائل کی وجہ سے جامعہ کراچی جیسا تعلیمی اور تحقیقی مرکز تباہی سے دو چار ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ علی القدر صدر سندھ فپواسا نے کہا کہ پورے سندھ کے اساتذہ کراچی یونیورسٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس سے قبل آفیسرز اور ملازمین کی تمام منتخب ایسوسیشنز اور تنظیموں نے شرکت کی اور اساتذہ کے سلیکشن بورڈ اور مالی مسائل کو پوری یونیورسٹی کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا تھا۔
علاوہ ازیں انجمن اساتذہ کے معتمد ڈاکٹر فیضان الحسن نقوی نے صورتِ حال کی سنگینی کا ذکر کیا تھا اور سلیکشن بورڈ نہ ہونا اور اِبلاغ عامہ کے اساتذہ کو عدالتی چکروں میں پھنسانے کے پیچھے بدنیتی ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ انجمنِ اساتذہ گزشتہ چار سال سے لیو انکیشمنٹ ، ملازمین کی پروموشن، پے فکسیشن، ریٹائرڈ ڈائریکٹر سے متعلق ملازمین اور افسران کی ہر جدوجہد میں شانہ بشانہ ہے اور آج کا اجلاس اس اتحاد کا مظہر ہے۔
انصاف پسند گروپ کے صدر افتخار احمد نے احتجاج جاری رکھنے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام پرزور دیا، یونائیٹڈ آفیسرز کے معتمد منیر بلوچ ، ملازمین اتحاد کے وقار علی، وائس آف سینٹر کے سفیر ، مشترکہ گروپ کے نصیر احمد، یونائٹڈ آفیسر کے جلیس احمد نے بھی مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھا۔
علاوہ ازیں اسلامی جمعیت طلبہ، اے پی ایم ایس او، پختون اسٹوڈنٹ کونسل، بلوچستان اسٹوڈنٹ فرنٹ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اساتذہ کے مطالبات سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

Leave a Reply