Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
دوست ممالک سے فنانسنگ کیلیے سپہ سالار نے بے پناہ کاوشیں کیں، وزیر اعظم – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

دوست ممالک سے فنانسنگ کیلیے سپہ سالار نے بے پناہ کاوشیں کیں، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی آخری شرط دوست ممالک سے فنانسنگ تھی، آرمی چیف نے اس سلسلے میں بے پناہ کاوشیں کیں جو ناقابلِ بیان ہیں۔

پی ٹی ایم اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کا معاملہ آخری مراحل پر ہے، آئی ایم ایف کی آخری شرط یہ تھی کہ دوست ممالک بطور ضامن پیسے جمع کروائیں، اس سلسلے میں سپہ سالار نے بے پناہ کاوشیں کیں جو بیان نہیں کرسکتا جبکہ وزیر خزانہ نے بھی بہت محنت کی اور نیندیں حرام کیں جبکہ وزیر اعظم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی بھی اس معاملے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

شہباز شریف نے دعا کی کہ آئی ایم ایف کا معاملہ جلد حتمی نتیجے پر پہنچے جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کشتی کو بیچ ساحل میں نہیں چھوڑیں گے بلکہ منجھدار سے لگائیں گے، مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد فتح ضرور آئے گی جس کے بعد ملکی مسائل کم ہوجائیں گے۔

وزیر اعظم کا یہ بیان وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اُس اعلان کے چند دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے آئی ایم ایف کو اسلام آباد کو 1 بلین ڈالر قرض دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے پہلے ہی 2 ارب ڈالر کے قرض کی یقین دہانی کرائی تھی۔

حکمران اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں ہے کیونکہ بیرونی فنانسنگ کو پر کرنے کے لیے دوست ممالک سے قرضوں کا حصول مکمل ہوچکا، اب امید ہے کہ آئی ایم ایف 6.5 ڈالر قرض کی قسط جاری کردے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک سال ہوگیا، عمومی تاثر تھا اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکتا، اتحادی جماعتوں کی حکومت نے ایک سال بحرانوں کا مقابلہ کیا اور یہ مراحل بھی گواہی ہیں کہ اتحادی ملک کو مسائل سے نکالنے کیلیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتحادیوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے، تمام اتحادیوں نے مشاورت میں ہمیشہ اچھا کردار ادا کیا، اتحادیوں کا بھرپور تعاون نہ ہوتا تو حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی تھی، ہم کبھی بات مانتے اور کبھی منواتے ہیں، یہی جمہوریت کا حسن ہے، اتحادیوں نے خلوص اور دلجوئی سے مشکل میں بھی تعاون جاری رکھا، جس پر
ہمارے مخالفین کو جان کے لالے پڑے ہیں کہ اتحاد اب تک کیسے قائم ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ 27 اپریل کو کو چین کے ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو ہوگی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *