لاہور: عالمی بینک نے پاکستان کے ریاستی انتظام میں چلنے والے کاروباری اداروں کو جنوبی ایشیاء میں بدترین قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق ان اداروں کا خسارہ اثاثوں کی مالیت سے زیادہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی وسائل میں نقصان اورخطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری کمپنیاں وجود برقرار رکھنے کیلئے عوامی فنڈز سے 458 ارب روپے سالانہ نگل لیتی ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس رجحان کی تبدیلی کیلئے مضبوط اصلاحات متعارف کرائیں کیونکہ خسارے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ادارے 2016ء سے جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے برابر مالی نقصان کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply