لاہور: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نےپاکستان میں 2022 کے دوران ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بے چینی اور اس کے انسانی حقوق کی صورت حال پر ہونے والے اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ بعنوان ’انسانی حقوق کی صورت حال 2022‘ میں گزشتہ سال کے دوران سیاسی اور معاشی بے چینی اور اس کے انسانی حقوق کی صورت حال پرمرتب ہونے والے گمبھیر اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتیں پارلیمان کی بالادستی کا احترام کرنے میں ناکام رہیں جبکہ قانون سازوں، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان کشمکش نے اداراتی ساکھ کو متاثر کیا۔
رپورٹ کہا گیا ہے کہ لوگوں کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کا سلسلہ سال بھر جاری رہا اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے نوآبادیاتی دور کے قوانین کا سہارا لیا گیا۔ درجنوں صحافیوں اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے کچھ نے دوران حراست تشدد کے الزامات عائد کیے۔

Leave a Reply