کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا عندیہ دے دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر ڈپٹی کنونیئر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم کو صیحیح گنا جائے، مردم شماری کا عمل گزشتہ روز ختم ہوگیا، جس کے بعد سندھ کے شہری علاقوں کے لئے اب فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں گھروں کا گنا اور دوسرے مرحلے میں شخص کو گنا گیا، لاڑکانہ میں ایک بلاک 254 گھر جبکہ کراچی میں ایک بلاک میں 198 گھر شمار کیے گئے، ایک بلاک میں 53 مکان کم آرہے ہیں کیونکہ کراچی میں 16 ہزار بلاکس ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں 16ہزار بلاکس ہیں، شہر میں 8 لاکھ 47 ہزار گھروں کو شمار ہی نہیں کیا گیا جبکہ حیدرآباد میں ایک لاکھ سے زائد گھر شمار نہیں کیے گئے، کراچی میں کوئی گھر ایسا نہیں بچا جو گراونڈ پلس 4 یا 5 نہ ہو، لاڑکانہ میں گھروں کے اسٹرکچرز 31 فیصد بڑھ رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر نے کہا کہ کراچی میں صرف 13 فیصد اسٹریکچرز بڑھے ہیں، حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں صرف 5 فیصد گھر بڑھ گئے جبکہ ہورے سندھ میں 11 لاکھ 35 ہزار گھروں میں اضافہ ہوا۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق کراچی میں صرف 3 لاکھ 70 ہزار گھر بڑھے ہیں۔

Leave a Reply