کراچی: سندھ حکومت پر قرضوں کا بوجھ آئندہ مالی سال کے اختتام تک ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا۔
قرضوں میں ہوشربا اضافہ روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کا خزانہ خالی ہونے کے باوجود اخراجات میں مسلسل اضافہ کا نتیجہ ہے جنہیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لے کر پورا کیا جارہا ہے۔
عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے نام پر صوبہ کے عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھانے میں سندھ حکومت بھی وفاق کے قرضوں پر انحصار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مالی سال 2021-22کے اختتام پر سندھ حکومت پر واجب ملکی و غیرملکی قرضوں کی مالیت 20ارب 90کروڑ روپے تھی جس میں سے نصف مقامی اور نصف غیرملکی اداروں سے لیا گیا۔

Leave a Reply