Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
گورنر سندھ نے کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی بل دستخط کئے بغیر واپس کردیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

گورنر سندھ نے کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی بل دستخط کئے بغیر واپس کردیا

کراچی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے آئین پاکستان کے سیکشن 116(2)(b)کے تحت کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی بل 2023 کو دستخط کئے بغیر واپس کردیا۔

اس ضمن میں گورنر سندھ نے کہا کہ بل کے سیکشن 14(1)کے تحت دیگر جامعات کے برعکس میئر یا ایڈمنسٹریٹر کو یونیورسٹی کا پروچانسلر بنایا گیا ہے، سیکشن 14(2)کے تحت وہ چانسلر کی غیر موجودگی میں اس کے اختیارات استعمال کرے گا اور فرائض سرانجام دے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی دیگر جامعات میں پروچانسلر، وزیر اعلیٰ سندھ کے اختیارات استعمال کرتا ہے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کو کالجوں کے الحاق یا اس کے خاتمہ کے سیکشن 6(vii)پر بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈ لائنز کے مطابق نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

کامران ٹیسری نے کہا کہ یونیورسٹی میں پروچانسلر کے کردار کو دیگر جامعات کے مطابق کرنے اور الحاق یا اس کے خاتمہ کے سیکشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ اس معاملہ پر نظرثانی کرنے کے لئے میں یہ بل صوبائی اسمبلی کو واپس بھیج رہا ہوں۔

علاوہ ازیں گورنر نے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (ترمیمی) بل 2023 کو بھی اعتراض لگا کر واپس کرتے ہوئے بل پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سیکشن (3)میں کی گئی ترمیم میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے وائس چیئرپرسن نامزد کرنے میں تعلیم، تجربہ اور مدت کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ اس اسامی پر تعیناتی کے لئے ان چیزوں کے بغیر یہ غیر مناسب عمل ہوگا۔

کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ سیکشن 9 میں 4 سالہ مقررہ مدت کو غیر معینہ مدت تک کرنے اور اس میں مزید 2سال اضافہ پہلے سے طے شدہ مسابقانہ اور شفاف تقرر کے طریقہ کار کے منافی ہے۔ اس طرح سے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے تجربہ کو 20سال سے کم کرکے 15سال کرنے اور اس اسامی کو 20 گریڈ سے19/20گریڈ کی کرنے سے مذکورہ افسر کی کارکردگی میں فرق آئے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *