Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اسلام آباد ہائیکورٹ کا لفٹ بند ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اسلام آباد ہائیکورٹ کا لفٹ بند ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عدالت کی لفٹ اچانک بند ہونے کے معاملے پر انکوائری کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق 25 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف دائر درخواست کی پیروی کے بعد سینئر قانون دان ایاز لطیف کھوسہ سمیت دیگر وکلا لفٹ بند ہونے سے پھنس گئے تھے جنہیں ریسکیو 1122 اور عدالتی عملے نے بہت مشکل سے باہر نکالا تھا۔

رجسٹرار ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی پاکستان پبلک ورکس کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے دو دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

رجسٹرار کی جانب سے ڈی جی پاکستان پبلک ورکس کو بھیجئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمارت میں موجود تمام لفٹس کی انسپکشن کی جائے اور ماہر لفٹ آپریٹر تعینات کیے جائیں، اگر ضرورت ہو تو مرمت بھی کروائی جائے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی مستقبل میں ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے ہائی کورٹ بلڈنگ کی لفٹ میں آپریٹر تعینات کرے، لفٹ آپریٹ کرنے کے لیے پی ڈبلیو ڈی کے اچھے تربیت یافتہ اور ایکسپرٹس کو تعینات کیا جائے۔

مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ 25 اگست کو دن بارہ بجے ججز بلاک کی لفٹ خراب ہو کر سیکنڈ فلور پر پھنس گئی، معلوم ہوا کہ سینئر وکیل لطیف کھوسہ سمیت دیگر وکلا اور میڈیا کے بعض نمائندے بھی موجود تھے۔

رجسٹرار نے لکھا کہ پی ڈبلیو ڈی کے ٹینیکل اسٹاف کو چیکنگ کے لیے بلوایا گیا تو لفٹ اوور لوڈنگ کا ایرر بتا رہی تھی، ٹیکنیکل اسٹاف متعدد کوششوں کے باوجود ایرر دور کر کے لفٹ میں پھنسے لوگوں کو نکالنے میں ناکام رہا۔ سی ڈی اے کے ریسکیو عملے نے بعد میں لفٹ کا دروازہ توڑ کر اس میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے مراسلے میں ڈی جی پاکستان پبلک ورکس کو لکھا کہ دو روز میں انکوائری کر کے بتایا جائے کہ لفٹ میں کیا خرابی ہوئی جس وجہ سے سنیئر قانون دان سمیت وکلا اور میڈیا نمائندوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *