Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ملک میں بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ؟ سراج الحق – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

ملک میں بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ؟ سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ ہے۔

سراج الحق نے لاہور میں مال روڈ مسجد شہداء پر احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کیا ہے، ایک گھر کا بل 40 ہزار آیا جس میں ہزاروں روپے ٹیکس لگا ہے، ہمارے بچے رات کو بھوکے سوئیں، ظلم کا یہ نظام نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ ہے، یہ بجلی کا بل ہے یا عالمی دہشت گردی ہے ، ہم اس بدمعاشی کو اس عالمی دہشت گردی کو نہیں مانتے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینا پڑے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم انوار الحق کہتا ہے کہ مہنگائی زیادہ نہیں ہے، یہ پاکستان کا وزیراعظم ہے یا آئی ایم ایف کا وزیراعظم ہے ، بجلی ، پیٹرول میں اضافے کے یہ سب فیصلے پی ڈی ایم کے ہیں، یہ آئی ایم ایف کی غلامی ہے، مگر عوام ان کی غلامی نہیں کریں گے، یہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے، جن لوگوں نے قرضہ لیا ہے ان کے اکاؤنٹس موجود ہیں ان سے وصول کیا جائے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ عوام کے ساتھ حکومت دھوکہ کررہی ہے، حکومت کہتی ہے کہ آئی پی پیز باہر کی کمپنیاں نہیں ہیں، آئی پی پیز سے مسلم لیگ ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے معاہدہ کیا، انہوں نے عوام پر ظلم کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بارہ بجے تک حکومت نے قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، سیاست ، رنگ اور نسل سے بالاتر ہوکر اللہ کو حاضر ناظر کرکے آپ کی خاطر جینے اور مرنے کا اعلان کرتا ہوں، اسلام اور پاکستان زندہ باد۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *