لاہور: بہاولپور چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے میں شہری کے ہلاکت کے معاملے پر ہونیوالی تحقیقات میں مرنیوالے شہری ہی پر تمام ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی۔
چڑیا گھر میں ٹائیگرز کی خوراک بننے والے شہری کو نشئی اور جرائم پیشہ قرار دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شہری اپنی غلطی سے شیروں کے پنجرے کے اندر گیا اور ان کی خوراک بن گیا، تاہم اس پہلو پر بات ہی نہیں کی جارہی کہ یہ معاملہ چڑیا گھر انتظامیہ کی واضح نااہلی اور سکیورٹی کی بھی ناکامی ہے۔چڑیا گھر میں 86 سے زائد ملازمین کے باوجود ایک شہری کی لاش شیروں کے پنجرے سے برآمد ہونا چڑیا گھر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

Leave a Reply