Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
جسٹس مظاہر کی جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

جسٹس مظاہر کی جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کےخلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف حکم امتناع کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے شکایت کنندگان کو فریق بنانے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کی درخواست میں لکھا ہے شکایات بدنیتی پرمبنی ہیں، شکایت کنندگان کو سنے بغیر کیسے اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ شکایات بدنیتی پر مبنی ہیں۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا ہم شکایات کنندگان کو فریق بنائے بغیر آپ کی درخواست کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ وکیل نے جواب دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مثال موجود ہے، جس پر جسٹس امین الدین نےکہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ سمیت سب کو فریق بنایا گیا تھا۔

وکیل نے دلائل میں کہا کہ جب سپریم جوڈیشل کونسل نےجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، اس دن ججزکے خلاف 21 درخواستیں خارج کیں اور 19 میں سے کسی شکایت گزار کو سنا نہیں گیا تھا۔ اگر اس کیس میں شکایت گزاروں کو فریق بنایاگیا توسپریم جوڈیشل کونسل کی خارج کردہ تمام شکایتوں کے خلاف آرٹیکل 184(3) کی درخواستیں آئیں گی۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ عدالت سمجھتی ہے کہ پہلے شکایت گزاروں کو نوٹس ہونے چاہییں، ورنہ کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگر آپ اس عدالت کا دروازہ کھول دیں گے تو ہرکوئی ججز کے خلاف آئے گا۔ ہمارے سامنے کوئی شکایت گزار نہیں آیا، جج آئے، اگر آپ نے اپنی درخواست میں جسٹس مظاہر کے خلاف شکایات کنندگان کا ذکر نہ کیا ہوتا تو عدالت اس کیس میں آگے بڑھتی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’’عدالت کا کہنا یہ ہے کہ شکایت گزاروں کو سنے بغیر ان کا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے، بالکل یہ نہیں چاہتے کہ سپریم کورٹ کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیں کہ وہ انگلیاں اٹھائیں‘‘۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ’’چاہتے ہیں فیصلہ ایسا دیں کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، یا تو کونسل میں شکایت اتنی ٹھوس اور جامع ہو کوئی جج بچ نہ سکے،یا پھر کونسل کو بے بنیاد شکایت پر سخت کارروائی کرنی چاہیے، درمیانی راستہ نہیں ہونا چاہیے،وکالت میں پیسہ زیادہ ہے،وکیل جج عزت کے لیے بنتا ہے‘‘۔

عدالت نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو ترمیم شدہ درخواستیں دائر کرنے کی ہدایت کردی، جس پر وکیل نے دوسری مرتبہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا کی، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا ابھی کیس کے میرٹس ہی نہیں سنے۔ میرٹس پر مقدمہ سننے کے بعد حکم امتناع کا جائزہ لیں گے۔ عدالت نے شکایت کنندگان کو فریق بنانے کی ہدایت کردی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کےخلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔

واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف جوڈیشل کونسل کا آئندہ اجلاس 11 جنوری کو ہونا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *