Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
سائفر کیس میں شاہ محمود اور پراسیکیوٹر میں تلخ کلامی، جج کی مداخلت – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

سائفر کیس میں شاہ محمود اور پراسیکیوٹر میں تلخ کلامی، جج کی مداخلت

اسلام آباد: آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی، سابق سیکرٹری خارجہ، سابق سیکرٹری داخلہ سمیت چار گواہان کے بیانات قلم بند ہوئے۔

خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نےِ سائفر کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش کیا گیا۔ دوران سماعت سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم، اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد سمیت چار گواہوں نے اپنے بیانات قلم بند کرائے۔

سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے بتایا کہ ان کی ریٹائرمنٹ تک سائفر کاپی وزارت خارجہ واپس نہیں آئی تھی۔ اس دوران پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے مداخلت کی جس پر شاہ محمود نے اعتراض اٹھایا کہ سامنے لکھا ہوا بیان ان کے سامنے ہے، گواہ کو معلوم ہے کیا بیان دینا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سابق سیکرٹری خارجہ دیانت دار آدمی ہیں احترام کرتا ہوں، میں جانتا ہوں پراسیکیوٹر کیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر آپ کو ایسے ہی کرنا ہے تو لکھا ہوا فیصلہ لائیں اور سنا دیں، پراسیکیوشن کا گواہ کے بیان کے دوران مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے، پراسیکیوٹر گواہ کو لقمے دینے سے گریز کرے۔

اس پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے جواب دیا کہ کیا میں نے کوئی گمراہ کن سوال کیا ہے؟ جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر پراسیکیوشن متوازن انداز سے چل رہی ہوتی، تو کیا دو بار ہائیکورٹ کیس کی کارروائی کو کالعدم قرار دیتی؟

شاہ محمود قریشی کے بار بار کارروائی میں مداخلت کرنے پر فاضل عدالت کے جج نے سابق زیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب آپ ایسا نہ کریں آپ کا یہ طرز عمل مناسب نہیں۔

شاہ محمود قریشی بولے اگر پراسیکیوٹر بولے گا تو میں بھی ضرور بولوں گا میں خاموش نہیں رہوں گا۔

شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ سے گزارش ہے کہ گواہ کا بیان آپ خود لکھوائیں۔

جج اور شاہ محمود قریشی کے مکالمے کے دوران بانی چیئرمین پی ٹی آئی بھی روسٹروم پر آئے اور بولے یہاں صرف ڈونلڈ لو کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

فاضل عدالت کے جج نے دوبارہ شاہ محمود قریشی کو مخاطب کیا کہ شاہ صاحب! ایسا اچھا نہیں لگتا کارروائی بہتر انداز میں چل رہی ہے تو اس کو آگے بڑھنے دیں۔

شاہ محمود قریشی بولے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ اگر سیکرٹری خارجہ پر اعتماد کر رہے ہیں تو پراسیکیوشن مداخلت کیوں کر رہی ہے؟

عدالت نے شاہ محمود قریشی کے اعتراض پر پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو گواہ کے بیان قلم بند کرانے کے دوران انہیں مداخلت سے روک دیا۔

عدالت نے چار گواہان کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *