Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
کالجوں کے پرنسپلزانٹرسال اول کے فیل طلبہ کی کاپیوں کی اسکروٹنی کیلیے بورڈ سے رابطہ کریں، گورنر سندھ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

کالجوں کے پرنسپلزانٹرسال اول کے فیل طلبہ کی کاپیوں کی اسکروٹنی کیلیے بورڈ سے رابطہ کریں، گورنر سندھ

کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی کے معروف سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے طلبہ کے انٹر سال اول کے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سے باقاعدہ رابطہ کریں ان کی جائز شکایات پر کارروائی کی جائے گی۔

کمشنر کراچی سلیم راجپوت کے ہمراہ انٹر بورڈ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک انٹر بورڈ سے کراچی کے بڑے اور معروف کسی بھی کالج کی انتظامیہ نے رابطہ نہیں کیا، بورڈ کے پاس ان میں سے کسی کالج کے اسکروٹنی فارم موصول نہیں ہوئے تو ان کی اسکروٹنی کیسے کریں۔

ادھر انٹرمیڈیٹ کے متنازع نتائج کے معاملہ پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے انٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے بعد زرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے منگل کو 10 متاثرہ طلبہ کے رول نمبر انٹر میڈیٹ بورڈ کے حوالے کیے جائیں گے بورڈ ان طلبہ کی کاپیوں کی تفصیلی جانچ کرکے 10 روز میں اپنی رپورٹ اتھارٹی کو پیش کرے گا جس کی بنیاد پر فیصلہ ہوگااورکمشنر کراچی 20 دن میں ان بچوں کے پیپرزکی مکمل اسکروٹنی کریں گے اسکروٹنی کا عمل شفاف ہوگا کی جس کی غلطی ہوگی وہ اس کو قبول کرے گا۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ یہ ان کا وعدہ ہے کہ طلبہ سے ناانصافی نہیں ہوگی۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ سب کےلیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے ہیں جس کے پاس انٹر کی اسکروٹنی کے لیے رقم نہیں ہے وہ ہم سے رابطہ کرے۔

قبل ازیں انٹر بورڈ کے افسران کے ساتھ اس معاملے پر منعقدہ اجلاس میں گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ اسسمنٹ کے دوران ممتحن حضرات نے بڑے پیمانے پر کاپیاں گھروں میں کے جاکر چیک کی ہیں اور مبینہ طور پر بہت سے ایسی کاپیاں ہیں جو اساتذہ کے بجائے ان کے بچوں نے بھی چیک کی ہیں جس سے نتائج خراب ہوئے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *