ناسا کا ’قاتل سیارچوںواشنگٹڈن ڈی سی: امریکی خلائی ادارے ناسا نے ماضی میں زمین کو تباہ کرنے والے قاتل سیارچوں کو 1000 اسپیس کرافٹ کی آرمی سے ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہےخلائی ادارہ خاموشی کے ساتھ ایسے لائحہ عمل پر کام کر رہا ہے اور ایسے طریقوں کی آزمائش کر رہا ہے جس سے خلاء میں موجود مہلک سیارچوں کو تباہ کیا جائے تاکہ زمین کو بچایا جا سکے
ناسا کی جانب سے نیشنل پریپیئرڈنیس اسٹریٹجی اینڈ ایکشن پلان فار نیئر-ارتھ آبجیکٹس اینڈ ہیزارڈز اینڈ پلینیٹری ڈیفنس کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادارے نے زمین کے قریبی اجرام (نیئر ارتھ آبجیکٹ) سے نمٹنے کا کیا منصوبہ بنایا ہے جو عالمی تباہ کاریوں کا سبب بن سکتا ہےسائنس دانوں کے مطابق آئندہ 100 برسوں تک کوئی خلائی چٹان زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں لیکن نظامِ شمسی میں ایسے ہزاروں سیارچے چھپے ہوئے ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں سائنس دانوں کی پیش گوئی کے مطابق اس وقت نظامِ شمسی میں درجنوں ’قاتل‘ سیارچے پوشیدہ ہیں
ناسا کی جانب سے ایک کوشش ستمبر 2022 میں 32 کروڑ 50 لاکھ مالیت کے ڈارٹ مشن کے طور پر کی گئی تھی۔ اس کوشش میں ایک اسپیس کرافٹ کو سیارچے سے ٹکرایا گیا تھا تاکہ اس کے مدار میں تبدیلی لائی جا سکے
ناسا کا ’قاتل سیارچوں‘ کے حوالے سے اہم منصوبہ

Leave a Reply