Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
نیند کی گولیوں سے بھی جلدی سلانے والا جادوئی پھل، طبی ماہر نے بڑا انکشاف کردیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

نیند کی گولیوں سے بھی جلدی سلانے والا جادوئی پھل، طبی ماہر نے بڑا انکشاف کردیا

آج کل جس قسم کی روٹین ہے ایسے میں اسٹریس اور انزائٹی جیسے امراض بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں، نوجوان ہوں یا بڑی عمر کے افراد، انہیں سونے کے لیے نیند کی گولیوں کی ضرورت پڑتی ہےسوشل میڈیا نے جہاں عوام کو فائدے پہنچائے ہیں وہیں بے شمار نقصانات بھی تحفے میں دیے، جس میں سب سے بڑا نقصان یہ کہ ہر شخص کی صحت پر سوشل میڈیا منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور جب انسان ذہنی طور پر پریشان ہو تو اسے پرسکون نیند کے لیے گولیاں لینی پڑتی ہیں ویب سائٹ ‘سری لائیو’ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیند سے متعلق طبی ماہر ڈاکٹر مائیکل بروس جنہیں ‘سلیپ ڈاکٹر’ (Sleep Doctor) کے نام سے جانا جاتا ہے، انہوں نے نیند کی گولیوں سے بھی جلدی نیند آنے کا طریقہ بتایا ہےڈاکٹر مائیکل بروس نے ‘کیلے’ کو وہ جادوئی پھل قرار دیا جو جلد از جلد نیند لا سکتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سونے سے قبل کیلا کھانے سے نیند اچھی اور جلد آتی ہے ڈاکٹر بروس نے واضح کیا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کیلا صبح کے وقت جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے جب کہ اس کے برعکس اسے رات میں کھانے سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں انہوں نے کیلے کو ‘قدرتی نیند آور گولی’ کا نام دیا کیوں کہ اس کے اندر میگنیشم ہوتا ہےاس کے علاوہ ڈاکٹر بروس نے دیگر پھلوں کے کھانے کو بھی سراہا جو انسان کی اچھی نیند کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں جس میں کیلے کے بعد کیوی کا نمبر ہے۔ کیوی دماغ میں سیروٹنن بڑھاتا ہے جو سکون آور ہارمون ہے اور نیند سے پہلے کچھ سستانے کا موقع فراہم کرتا ہےڈاکٹر مائیکل کے مطابق سونے سے قبل دہی یا اناناس کھانا بھی انتہائی مفید ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *