وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل ہے تو ہمارے لیے پیپلز پارٹی کا تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے انہوں نے کہ بلاول بھٹو نے جو اعتراضات کیے وہ درُست بھی ہیں، ہماری پارٹی قیادت اور حکومت کو وہ اعتراضات دور کرنے چاہئیں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر صورت حال ویسی ہی ہے جیسے بلاول نے بتائی ہے تو اس کی ہمیں فائن ٹیوننگ کرنی چاہیے، کولیشن کو اکٹھے اور متحد رکھنا ہمارا فرض ہے۔ سیاسی ایفرٹ کا لیول بڑھنا چاہیے، ایسی کوئی بھی آواز آئے اسے فوری طور پر ٹھیک کرنا چاہیےانہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے جو لوگ سیاسی رابطے بڑھاتے ہیں ان میں میرا نام شامل نہیں لیکن وہ لوگ اس پر کام کر رہے ہیں، شہباز شریف خود انوالوڈ ہیں
وزیر دفاع نے مزید کہا اس وقت جو ہائبرڈ ارینجمنٹ جاری ہے وہ ذاتی مفادات کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کو دلدل سے نکالنے کیلئے ہےخواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے تھوڑا بہت خلل تو پڑیگا لیکن اب یہ کوئی سیاسی خطرہ نہیں رہاانہوں نے کہا کہ گنڈاپور نے پچھلے جو دو تین احتجاج کیے وہ فکسڈ تھے اورانہوں نے بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے یقین دہانیاں کرائی ہوئی تھیں اور غائب بھی انہی کی مرضی سے ہوئے تھے
پارٹی قیادت اور حکومت کو بلاول کے اعتراضات دور کرنے چاہئیں: خواجہ آصف

Leave a Reply