چیئرمین پاکستان سافٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن (پاشا) سجاد مصطفیٰ سید کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے مسائل اور وی پی این کی رجسٹریشن کے باعث بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے ملک سے باہر جانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے سجاد مصطفیٰ سید کا بتانا تھا رجسٹرڈ وی پی این کا مقصد ہےکہ پی ٹی اے نے ایک سسٹم بنایا ہے جس میں ہر یوزر یہ بتائے گا کہ وہ کہاں سے اسٹیٹک آئی ڈی لے رہا ہے، پھر پی ٹی اے اسے اجازت دے گا یا اس شخص نے جہاں پر جانا ہے اس اینڈ کو رجسٹر کرے گا، دونوں اینڈز کو کرے گا یا کم از کم ایک اینڈ کو رجسٹر کرے گاانہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری انڈسٹری یہ کر ہی نہیں کر سکتی کیونکہ جب بھی آپ رجسٹر ہونے جاتے ہیں تو آپ کو ایک نیا آئی پی ایڈریس ملتا ہے اور رجسٹر ہونے میں تقریباً 8 گھنٹے کا وقت لگتا ہے، اس سے 30 لاکھ فری لانسرز متاثر ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو 100 سے 200 ڈالر کماتے ہیں، اب انہیں کام ملے گا تو وہ کہیں گے کہ 8 گھنٹے انتظار کریں پی ٹی اے ہمیں اجازت دیگی تو ہم آگے کام کر سکیں گے تو پھر ایسے حالات میں تو کوئی بھی کمپنی انہیں کام ہیں دے گی
ان کا کہنا تھا اس میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ وی پی این کے ذریعے کسی غیر ملکی کمپنی سے کام کرتے ہیں تو وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بیچ میں کوئی تیسرا فریق نہ ہو، جب انہیں معلوم ہو گا کہ دونوں فریقین کے علاوہ تیسری قوت بھی موجود ہے جو انہیں دیکھ رہی ہے تو وہ فوری طور پر معاہدے کینسل کر دیں گے، اس کے نقصان کا اگر ہم بہت محتاط اندازہ لگائیں تو یہ ایک ارب ڈالر بنتا ہےچیئرمین پاشا کا کہنا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ وی پی این کی رجسٹریشن کا طریقہ پاکستان میں قابل عمل ہے ہی نہیں لیکن اگر آپ یہ کر بھی لیں تو قومی سلامتی کے مسائل پھر بھی حل نہیں ہوتے کیونکہ اگر کوئی شخص دہشتگردی کر سکتا ہے تو وہ وی پی این رجسٹرڈ بھی کرا سکتا ہے، ہمیں اس کی نیت کا تو نہیں پتہ کہ وہ 6 مہینے بعد یا سال بعد کیا کرے گا
انٹرنیٹ اور وی پی این کا معاملہ: بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے باہر جانے کی پلاننگ شروع کردی ہے: چیئرمین پاشا

Leave a Reply