سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز اور برطانوی محکمہ ٹیکس (ایچ ایم آر سی) کے درمیان کمپنی کے ٹیکس کاتنازع 2020 میں شروع ہوابرطانوی محکمہ ٹیکس (ایچ ایم آر سی) کے مطابق حسن نواز کا دیوالیہ پن 29 اپریل 2025 کو ختم ہوجائے گا، تمام آپشنزختم ہونے پر حسن نواز کو دیوالیہ قرار دینے کیلئےلندن ہائیکورٹ سے رجوع کیاتھاایچ ایم آر سی کا کہنا تھاکہ رازداری کے قوانین کے سبب حسن نواز کے کیس کی تفصیلات شئیرنہیں کرسکتےایچ ایم آرسی اورحسن نوازکے درمیان ٹیکس کےتنازع کی رقم 10 لاکھ پاؤنڈ سے کم ہے
ذرائع کے مطابق حسن نوازاور محکمہ ایچ ایم آرسی کے درمیان ایک کمپنی کے ٹیکس کا تنازع 2020 میں شروع ہوا، حسن نواز نے ایک غیرفعال کمپنی کا ٹیکس ادا کرنے سے انکار کیا تھاحسن نواز کا بریگزٹ اور کوویڈ لاک ڈاؤن کے دوران ہوئے مالی نقصان کے سبب ٹیکس ادا نہ کرنے کا مؤقف رد کردیا گیا تھا اور تنازع کی پہلی سماعت 4 دسمبر 2023 کو جج جونز نے کی تھی جج جونز نے ہی پراپرٹی کیس میں بانی متحدہ کے خلاف فیصلہ دیا تھا تاہم حسن نواز کو دیوالیہ قرار دینے کا فیصلہ تیسری سماعت میں جج مولن کی عدالت میں ہواحسن نواز کے دیوالیہ ہونے کا معاملہ ڈیڑھ برس سےکم عرصہ میں ختم ہوجائے گا اور ان کے دیوالیہ ہونے کا معاملہ 6برس تک مالیاتی ریکارڈ پر رہے گاحسن نواز اب بھی متعدد کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں، کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق حسن نوازپاکستانی ہیں حسن نواز نے رابطہ کیے جانے پر جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس تنازع ہے، کسی جرم، دھوکا دہی یا منی لانڈرنگ کی تحقیقات نہیں ہو رہیں، یہ کسی جرم، دھوکا دہی کا معاملہ نہیں، سول کیس ہے
حسن نواز اور برطانوی محکمہ ٹیکس کے درمیان کمپنی کے ٹیکس کا تنازع 2020 میں شروع ہوا، ذرائع

Leave a Reply