Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
رانا ثنا اللہ کا عافیہ صدیقی اور عمران خان کے حوالے سے بیان – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

رانا ثنا اللہ کا عافیہ صدیقی اور عمران خان کے حوالے سے بیان

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر امریکا عافیہ صدیقی کو رہا کر دیتا ہے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں ہم سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کی تمام ڈیمانڈز سے متفق ہوں یا وہ ہماری ڈیمانڈز پر متفق ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے کوئی فوری میٹنگز کی تجویز نہیں ہے، تاہم اگر پی ٹی آئی جلد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتی ہے تو ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اگر پی ٹی آئی کوئی ٹائم فریم مقرر کرنا چاہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ حکومت کو آئین و قانون کے تحت کام کرنا ہے۔ اگر کوئی ملزم ٹرائل میں ہے اور جوڈیشل کسٹڈی میں ہے تو حکومت اس کی رہائی کیسے کر سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کرمنل کیس پر جوڈیشل کمیشن کی بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی، اور انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف بھی کتنے کیسز درج ہوئے ہیں، کیا کبھی کسی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی گئی؟ تحقیقات پولیس اور دیگر اداروں کے ذریعے کی جاتی ہیں، اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر فیصلے نہیں کریں گے۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر کوئی کام نہیں کریں گے، اور اگر کسی قسم کی مداخلت کی کوشش کی گئی تو اسے پاکستان کی خودمختاری میں مداخلت سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوئٹس اور بیانات کے ذریعے پاکستان کی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔

رانا ثنا اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے نہیں کیا گیا، بلکہ پاکستان کے مفادات اور خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی اہم ہے اور اگر امریکا عافیہ صدیقی کو رہا کرتا ہے تو پاکستان عمران خان کے حوالے سے بھی سوچ سکتا ہے۔

انہوں نے ایک اور اہم بات شیئر کی کہ ان کے مطابق پاکستان نے امریکا سے شکیل آفریدی کی رہائی کے لیے بڑا دباؤ محسوس کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر امریکا شکیل آفریدی کو رہا کرنا چاہتا ہے تو وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے میں ایسا کرے۔ امریکا کا جواب تھا کہ عافیہ صدیقی کو عدالت سے سزا ملی ہے، جس پر پاکستان نے بھی کہا کہ شکیل آفریدی کو بھی ہماری عدالتوں سے سزا ہوئی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی حکومت کو اس تبدیلی سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور خودمختاری کا دفاع کرے گا اور ملکی مفادات کے برعکس کسی بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *