وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال پر پی ٹی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے صوبے میں امن کے حوالے سے کچھ نہیں کیا اور اس وقت کے پی حکومت کے رویے پر سوال اٹھایا جب ضلع کرم کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔ عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی طالبان سے دوستی تھی تو اس دوستی کا سدباب بھی ضروری تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے، اور خیبرپختونخوا میں امن کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ عطا تارڑ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کو فوجی تربیت کیوں نہیں دی۔
وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل حل کرنے پر کسی کی توجہ نہیں، اور صوبے میں 152 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ کرم میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اور گرینڈ امن جرگے کے درمیان معاملات طے نہیں ہو سکے، اور ایک فریق نے معاہدے پر دستخط کے لیے منگل تک کا وقت مانگا ہے۔

Leave a Reply