افغانستان کی طالبان حکومت نے خواتین کو ملازمت دینے والی تمام ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت اقتصادیات نے کہا ہے کہ جو این جی اوز حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ افغانستان میں خواتین کے حقوق پر طالبان حکومت کی پالیسی میں مزید سختی کی عکاسی کرتا ہے۔ دو سال قبل طالبان حکومت نے این جی اوز سے خواتین ملازمین کو ہٹانے کا حکم دیا تھا، اور اب انہیں مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل طالبان حکومت نے رہائشی عمارتوں میں ایسی کھڑکیاں بنانے پر بھی پابندی عائد کی تھی جن سے خواتین کے استعمال کی جگہوں کو نظر آنا ممکن ہو۔ حکومتی ترجمان نے کہا تھا کہ نئی عمارتوں میں ایسی کھڑکیاں نہیں بننی چاہئیں جن سے کسی کے صحن، باورچی خانے، یا دیگر ایسی جگہوں کو دیکھنا ممکن ہو جہاں خواتین عموماً موجود رہتی ہیں۔
اس فیصلے کے نتیجے میں افغانستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد ہو رہی ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

Leave a Reply