اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یواف گیلانٹ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ یواف گیلانٹ، جو وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی ساتھی رہے ہیں، نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ گیلانٹ نے گزشتہ سال اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 7 ہزار قدامت پسند یہودیوں کو اسرائیلی فوج میں بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، جس پر ملک میں بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا تھا۔
اس کے علاوہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ان کے نیتن یاہو سے شدید اختلافات ہوئے، جس کے نتیجے میں انہیں وزیر دفاع کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے گیلانٹ کو برطرف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ان کے درمیان اعتماد تھا لیکن حالیہ کچھ مہینوں میں یہ اعتماد ختم ہو گیا تھا۔ گیلانٹ کا استعفیٰ اسرائیل کی سیاسی صورتحال میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتا ہے، اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں داخلی سطح پر کشیدگی اور اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a Reply