ڈپٹی وزیراعظم اور وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش پاکستان کا بچھڑا ہوا بھائی ہے اور ان سے ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد بنگلا دیش کا دورہ کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کی کوشش کریں گے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ نے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھایا ہے، اور وزیراعظم نے غزہ میں ہونے والی نسل کشی پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سفارتی تنہائی کا تاثر اب ختم ہو چکا ہے، اور فارن آفس نے اکنامک ڈپلومیسی پر بھی زور دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے 2018 تک کامیاب اقدامات کیے تھے، لیکن ٹی ٹی پی کی واپسی اور مجرموں کی رہائی سابق حکومت کا غلط فیصلہ تھا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹس میں بہتری آ رہی ہے اور آئی ٹی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف ریلیف اقدامات کا بھی ذکر کیا اور قوم کو مستقبل میں مزید خوشخبریوں کی توقع دلائی۔

Leave a Reply