بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں 40 سال قبل یونین کاربائیڈ کیمیکل پلانٹ میں پیش آنے والے گیس لیک حادثے کا فضلہ ٹھکانے لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ 2 دسمبر 1984 کو اس پلانٹ میں گیس کے اخراج کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے تھے، جب کہ 5 لاکھ افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، گیس لیک کے تین دن بعد 10 ہزار افراد کی موت ہو گئی تھی، اور یہ تعداد بڑھ کر 22 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس حادثے کے بعد فیکٹری کو بند کر دیا گیا تھا۔
اب، 40 سال بعد، اس فیکٹری سے بچا ہوا زہریلا فضلہ نکالنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ 337 میٹرک ٹن زہریلے فضلے کو 12 کنٹینرز میں منتقل کیا جا رہا ہے، اور اسے بھوپال سے 250 کلومیٹر دور پیتھم پور کے صنعتی علاقے میں ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ اس عمل میں 250 ورکرز حصہ لے رہے ہیں، اور زہریلے فضلے کو خصوصی کنٹینرز میں منتقل کیا جا رہا ہے جو لیک ہونے اور آگ لگنے سے محفوظ ہیں۔

Leave a Reply