Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پشاور: کرم میں امن کی بحالی کے لیے پولیس اور ایف سی پلاٹونز تعینات کرنے کا فیصلہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پشاور: کرم میں امن کی بحالی کے لیے پولیس اور ایف سی پلاٹونز تعینات کرنے کا فیصلہ

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا، بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کرم میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نئی پولیس چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی اور ساتھ ہی 2 ایف سی پلاٹونز بھی تعینات کیے جائیں گے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ کرم کے تنازعہ کو حل کرنے میں ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ لگا، لیکن حالیہ جرگے کے نتیجے میں پائیدار حل حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ جرگے کے دوران تقریباً 50 نشستیں ہوئیں، جس میں مقامی رہنماؤں اور انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سڑک کی بندش کا مقصد خونریزی کو روکنا تھا، اور اس کے باعث حکومت کو عوامی مسائل کا مکمل ادراک تھا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 15 ٹن ادویات اور 700 سے زائد افراد کو فضائی سروس فراہم کی۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد دھرنے والوں کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں اور دھرنوں کا کوئی جواز نہیں رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرین کو جلد معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

کرم شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے 400 پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی منظوری دی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی 2 ایف سی پلاٹونز اور نئی پولیس چیک پوسٹیں بھی تعینات کی جائیں گی تاکہ علاقے میں امن قائم رکھا جا سکے۔

یاد رہے کہ کرم کی حالیہ صورتحال پر گرینڈ جرگہ میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، بڑا اسلحہ حکومتی تحویل میں دیا جائے گا، اور فریقین کے مورچے ختم کیے جائیں گے تاکہ قبائلی تنازعات کو مذہبی رنگ نہ دیا جا سکے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *