جنوبی غزہ کے المواصی کیمپ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہو گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ پولیس کے چیف محمود صلاح اور ان کے معاون حسان مصطفیٰ بھی شہید ہوگئے۔
محمود صلاح غزہ پولیس فورس کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور انہیں ان کے معاون سمیت المواصی کیمپ میں موجود ان کے خیمے پر بمباری کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ تازہ ترین حملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ پر اپنی فضائی بمباری کو تیز کر دیا ہے، جس میں اسپتالوں، اسکولوں اور مہاجرین کے کیمپوں سمیت شہری علاقے بھی بلا تمیز نشانہ بن رہے ہیں۔ کچھ روز قبل اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع آخری فعال کمال عدوان اسپتال کو بھی نشانہ بنایا، جس سے اسپتال کے اہم حصے تباہ ہو گئے اور یہ غیر فعال ہو گیا۔
اسرائیلی فوج نے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کو بھی حراست میں لے کر حراستی مرکز منتقل کر دیا ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

Leave a Reply