بلوچستان کے پاک افغان شمالی سرحدی علاقوں میں موسلادھار بارشوں نے معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ ان بارشوں کی وجہ سے نشیبی علاقے اور ندی نالے زیرآب آ گئے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، چمن میں مسلسل بارش کی وجہ سے بجلی کی سپلائی بھی معطل ہو گئی اور کئی علاقوں میں بجلی کی لائنیں ٹرپ کر گئیں۔ اس کی وجہ سے چمن اور دیگر قریب کے علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں، اور لوگ بغیر بجلی کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بلوچستان میں اس شدید بارش کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس راستے پر سفر کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حکام نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب، خیبر پختونخوا میں بھی موسمی حالات شدید ہیں۔ چترال شہر اور لواری ٹنل کے قریب 6 انچ برف پڑی ہے، جس سے سڑکوں پر برف کی تہہ جم گئی ہے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ وادی کاغان، ناران، شوگران اور کالام میں برفباری کی شدت بڑھ گئی ہے، اور ان علاقوں میں سردی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سوات کے شہر مینگورہ میں بھی بارش نے سردی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے مقامی لوگ شدید سرد موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی موسم نے رنگ بدلا ہے۔ مظفرآباد میں ہلکی بارش ہوئی جبکہ وادی لیپہ اور وادی نیلم میں برفباری کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ برفباری نہ صرف سردی میں اضافے کا باعث بنی بلکہ ان علاقوں کی قدرتی خوبصورتی کو بھی مزید بڑھا دیا ہے۔
ان موسمی حالات کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکام نے اس بات کی ہدایت کی ہے کہ عوام ان علاقوں میں احتیاط سے سفر کریں اور شدید موسم کے دوران غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔ ان بارشوں اور برفباریوں سے جہاں سردی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اس کے اثرات مقامی معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ان تمام علاقوں میں مختلف ایمرجنسی ٹیمیں فعال ہو چکی ہیں، جو کہ سڑکوں کی صفائی، بجلی کی فراہمی بحال کرنے اور ضروری امدادی کاموں کے لیے کام کر رہی ہیں۔ حکام نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایمرجنسی خدمات سے تعاون کریں تاکہ ان قدرتی آفات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

Leave a Reply