Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر قید کے بجائے 25 سال سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا” – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر قید کے بجائے 25 سال سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا”

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کے ایک معاملے میں عمر قید کی بجائے 25 سال قید بامشقت کی سزا دینے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ اس مقدمے میں 30 نومبر 2020 کو ایک لڑکی کو شادی سے انکار پر قتل کرنے والے مجرم شہزاد کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جو عدالت نے غیر موزوں اور وضاحت کے بغیر قرار دی۔

اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کی، جس میں عدالت نے کہا کہ قتل کے مقدمات میں معمول کے مطابق سزا موت ہوتی ہے، اور مخصوص حالات میں اسے کم کر کے عمر قید دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ کو سزائے موت نہ دینے کی وجوہات ضرور فراہم کرنی چاہیے تھیں، مگر ٹرائل کورٹ 25 سال کی سزا دینے کا کوئی جواز پیش کرنے میں ناکام رہی۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنی تفصیل میں یہ وضاحت نہیں کی کہ 25 سال قید کی سزا کیوں دی گئی، اور اس بارے میں نہ ہی مدعی اور نہ ہی اسٹیٹ کونسل کوئی قابلِ جواز وجہ پیش کر سکے۔ اس کیس میں شہزاد نے پانچ ماہ تک لڑکی کا پیچھا کیا اور پھر شادی سے انکار پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، اور آخرکار 30 نومبر 2020 کو صبح ساڑھے نو بجے لڑکی کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ 45 دنوں میں اس کیس کا فیصلہ کرے اور دونوں فریقین کو اس کے جواز کے حوالے سے دلائل دینے کا موقع فراہم کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ کو سزا دینے کی وجوہات لازمی فراہم کرنی چاہیے تھیں، خاص طور پر جب یہ معاملہ قتل کا تھا اور قانون کے تحت اس کی سزا موت ہو سکتی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے پاکستان کے عدالتی نظام میں سزا کے تعین کے بارے میں اہم قانونی نکات پر روشنی ڈالی اور اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ سزاؤں کے حوالے سے شفافیت اور وضاحت ضروری ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *