خزانہ کی تلاش ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر بہت کم لوگوں کو ملتی ہے، لیکن اسکاٹ لینڈ میں ایک عام شخص نے حقیقت میں ‘خزانہ’ دریافت کر لیا۔ جو فٹزپیٹرک نام کا یہ شخص ایک کھنڈر ہو چکی عمارت کے مرکز میں سطح زمین سے 2 فٹ گہرائی میں کھدائی کر رہا تھا، جب اس کی کدال کسی چیز سے ٹکرائی۔ باہر نکالی گئی چیز ایک قدیم نیزے کا دھاتی حصہ تھا جو صدیوں سے زمین میں دفن تھا۔
یہ نیزہ کانسی سے بنا تھا اور اسے لکڑی کے ڈنڈے کے آخر میں فٹ کیا جاتا تھا۔ اس نایاب اور قدیم چیز کی دریافت 2024 میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک اہم ترین آثار قدیمہ کی دریافتوں میں شمار کی گئی۔ جو فٹزپیٹرک نے بتایا کہ جب وہ یہ شے دیکھ رہے تھے، تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور یہ لمحہ ان کے لیے بہت خاص تھا۔ انہیں ہمیشہ سے تاریخ میں گہری دلچسپی رہی ہے، اور وہ اکثر East Lomond نامی پہاڑی قلعے میں کھدائی کرتے رہتے ہیں۔
یہ دریافت اس وقت ہوئی جب جو فٹزپیٹرک، Aberdeen یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے شعبے کے سربراہ پروفیسر گورڈن نوبل کے ساتھ کھدائی کر رہے تھے۔ جب دونوں نے یہ نایاب شے دیکھی، تو ان دونوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے۔ یہ نوادر جولائی 2024 میں دریافت کیا گیا، اور اس مہم میں عام افراد اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے بھی حصہ لیا تھا۔
اس کھدائی کا مقصد دوسری یا تیسری صدی عیسوی سے لے کر سنہ 700 تک کے گمشدہ بستیوں کے آثار دریافت کرنا تھا۔ جو فٹزپیٹرک نے بتایا کہ کئی ریٹائرڈ افراد اس طرح کی مہمات کا حصہ بنتے ہیں تاکہ خود کو فٹ رکھ سکیں، تاہم نوجوان بھی ان مہمات میں شامل ہوتے ہیں، اور میڈیا بھی ایسے پروگرامز کو بہت پُرکشش سمجھتا ہے۔

Leave a Reply