دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز نے ایک حالیہ کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اگر انہیں ماضی میں واپس جانے کا موقع ملے تو وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق گزشتہ 50 سالوں کے دوران دنیا میں تقریباً سب کچھ بہتر ہوا ہے، سوائے ایک شعبے کے، یعنی ماحولیاتی آلودگی کے۔
جیف بیزوز کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برسوں میں بچوں کی اموات، عالمی تعلیمی معیار، اور غربت کی شرح میں بہتری آئی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا کے سمندر، دریا اور جنگل آلودہ ہوچکے ہیں، جو انسانی ترقی کی قیمت پر ہوا ہے۔ ایمازون بھی ان کمپنیوں میں شامل ہے جو ماحول پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔ 2022 میں ایمازون نے 70.74 ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار خارج کی، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تاہم، بیزوز نے کہا کہ ایمازون نے 2040 تک اپنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو صفر فیصد تک کم کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور وہ خود بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی دولت خرچ کر رہے ہیں۔ بیزوز نے اس مقصد کے تحت اپنی ایرو اسپیس کمپنی، بلیو اوریجن، میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمپنی خلا میں پہنچ کر دیگر سیاروں سے توانائی حاصل کرنے والے مواد کو تلاش کرے گی تاکہ زمین کے قدرتی وسائل کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
اگرچہ ایلون مسک کے خلائی منصوبے مختلف ہیں، بیزوز نے اپنے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بلیو اوریجن انسانیت کو زمین پر خوش رکھے۔ ان کا کہنا تھا، “ہمارے پاس کوئی پلان بی نہیں، ہمیں زمین کو بچانا ہوگا، اور ہمیں خلا میں روبوٹ مشنز بھیج کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نظام شمسی کے تمام سیاروں پر انسانیت کا مستقبل محفوظ رہے۔”

Leave a Reply