حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اس بات پر کمیشن بنایا جائے کہ 26 نومبر کو ایک صوبائی حکومت نے جتھا لے کر وفاق پر حملہ کیا؟ انہوں نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں بات کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے مخصوص ججز کو کمیشن کا حصہ بنانے کی تجویز دی تو یہ ایک متنازعہ معاملہ بن جائے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں مطالبات میں بانی پی ٹی آئی سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات تحریری طور پر اگلی ملاقات میں پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کو مبینہ 45 لاپتا یا 13 شہید کارکنوں کی فہرست نہیں دی، جو کہ پی ٹی آئی کے جانب سے ایک اہم مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ، رانا ثنااللہ نے 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونگی نمبر 26 پر ہونے والی فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانا ایک غیر ضروری اقدام ہوگا۔
Leave a Reply