ضلع کرم کے علاقے بگن میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ فائرنگ ایک نامعلوم گروہ کی طرف سے کی گئی تھی، اور اس میں ایف سی کے ایک اہلکار، ایک پولیس اہلکار، اور تین راہگیر بھی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوراً طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فائرنگ کا یہ واقعہ لوئر کرم کے علاقے بگن میں ہوا، جہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ زخمی ڈپٹی کمشنر کو ابتدا میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، اور پھر ان کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دینے کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا جا رہا تھا۔ علاقے میں اس واقعے کے بعد سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد، پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کو ملک کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ امن معاہدوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ امن بحال کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور وہ ہر صورت میں کرم اور دیگر علاقوں میں امن قائم رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد کرم جانے والے امدادی قافلے کو فی الحال روک دیا گیا ہے تاکہ حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کرم تنازع پر فریقین کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو تین ماہ بعد کھولا جانا تھا۔ یہ حملہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
حکام اس بات پر متفق ہیں کہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اور کرم میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

Leave a Reply