رپبلکن رہنما مائیک جانسن، جنہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کی تھی، امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہو گئے ہیں۔ جمعہ کے روز، نئی کانگریس کے پہلے دن، مائیک جانسن نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر کے عہدے کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں انتہائی کم فرق سے کامیابی حاصل کی۔ مائیک جانسن کو 218 ووٹ ملے، جبکہ ان کے حریف ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز کو 215 ووٹ ملے۔ اس ووٹنگ میں خاص بات یہ تھی کہ تین رپبلکن اراکین نے ابتدا میں جانسن کے مخالف میں ووٹ دیا، جن میں رالف نورمن (جنوبی کیرولائنا)، کیتھ سیلف (ٹیکساس) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل تھے۔ تاہم، یہ تینوں رپبلکن اراکین جانسن سے ملاقات کے بعد حیران کن طور پر اپنا ووٹ واپس لے کر جانسن کے حق میں ووٹ دینے پر راضی ہو گئے۔
اس کے علاوہ، تمام ڈیموکریٹک اراکین نے حکیم جیفریز کے حق میں ووٹ دیا، جو ایوان کے اسپیکر کے عہدے کے لیے رپبلکن امیدوار کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس انتخاب کے ساتھ ہی رپبلکنز نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر باضابطہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے ان کے پاس قانون سازی کا اختیار آ گیا ہے۔ تاہم، پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی صورت میں قانون سازی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، کیونکہ ایوان میں رپبلکنز کی اکثریت بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ، سینیٹ میں زیادہ تر قانون سازی کے لیے ڈیموکریٹس کی حمایت ضروری ہو گی۔ پیر کو کانگریس کا دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی جیت کی تصدیق کی جا سکے گی، لیکن رپبلکنز کو قانون سازی کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply