پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری کارروائیاں جنگ نہیں بلکہ بے دخلی، نسلی صفایا اور تباہی کی مہم ہیں، اور عالمی برادری کو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کا دفاع کرنے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو غزہ میں جاری خونریزی اور تباہی کو روکنے کے لیے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری پوری کرے گی یا پھر اس المیے سے منہ موڑ لے گی؟ فلسطینی عوام سلامتی کونسل سے انصاف اور امن کی توقع رکھتے ہیں، اور ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ میں معصوم افراد کی تکلیف اور خونریزی کا خاتمہ ضروری ہے، اور اس حوالے سے فوری اقدامات کیے جانے چاہیے۔
اس کے علاوہ، پاکستان نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ فلسطینی رکنیت ایک اخلاقی ضرورت ہے اور یہ دو ریاستی حل کی ناقابل واپسی ضمانت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو غزہ کی غیر انسانی ناکہ بندی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور جنگی جرائم کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرنی چاہیے۔ پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلامتی کونسل کو محفوظ اور مستحکم انسانی راہداریوں کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔
عاصم افتخار نے آخر میں کہا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے عمل کا آغاز کیا جائے، جو نہ صرف فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرے گا بلکہ قبضے کے خاتمے کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری طور پر خونریزی بند کرائی جائے تاکہ معصوم انسانوں کی زندگیوں کا تحفظ کیا جا سکے اور انسانیت کے اصولوں کا احترام کیا جا سکے۔

Leave a Reply