Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فراہمی منقطع کرنے کے معاملے پر حکومت کو مزید وقت دے دیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فراہمی منقطع کرنے کے معاملے پر حکومت کو مزید وقت دے دیا

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی منقطع کرنے کے معاملے پر حکومت کو مزید وقت دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے حکومت کے مزید وقت دینے کی درخواست پر مثبت جواب دیا اور اس حوالے سے حکومت کو مزید لچک فراہم کی ہے۔ تاہم، وزارت خزانہ نے اس وقت کی مدت کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، مگر یہ معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے جنوری کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن میں لچک دکھائی ہے۔

قبل ازیں، حکومت نے جنوری 2025 کے آخر تک کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی منقطع کرنے کا عہد کیا تھا۔ اس وقت حکومت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، اور پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن نے اس معاملے پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ نئے میکانزم کو تیار کیا جا سکے اور نمبرز کو کراس چیک کیا جا سکے۔

ملک میں 1180 کیپٹو پاور پلانٹس موجود ہیں، جو روزانہ 15 کروڑ مکعب فٹ گیس لے کر اپنی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پلانٹس حکومت سے 3 ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے گیس خریدتے ہیں۔ نان کیپٹو انڈسٹری کی جانب سے بھی کیپٹو پاور پلانٹس کے حوالے سے شکایات ہیں، کیونکہ انہیں نیشنل گرڈ سے مہنگی بجلی مل رہی ہے، جو کیپٹو پلانٹس کی بجلی کے مقابلے میں 15 روپے فی یونٹ تک زیادہ پڑتی ہے۔

کیپٹو انڈسٹری کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا ہے کہ نیشنل گرڈ پر جانے سے بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی، تاہم پاور ڈویژن ان کے ساتھ بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے معاہدے کرنے کے لیے تیار ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *