خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے والی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں 3 کروڑ روپے سے زائد کے نقصانات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ خیبرپختونخوا اسمبلی میں کمیٹی کے چیئرمین منیر حسین نے پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس کارروائی کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا سامان بھی غائب ہو گیا، جس کی مالیت 35 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے گمشدہ سامان میں 25 لاکھ روپے مالیت کی ایم فور رائفل، ڈیڑھ لاکھ روپے کی بلٹ پروف جیکٹ، 6 لاکھ روپے مالیت کا موبائل فون اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا ہاؤس سے سرکاری اسلحہ، موبائل فونز اور نقد رقم بھی غائب ہو گئی، جس کی مالیت کا تخمینہ 45 لاکھ روپے ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی گاڑیوں کو 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے، جبکہ دیگر اہم سامان جیسے گیس ماسک، موبائل فونز، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈی وی آر، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کے نقصان کا تخمینہ 10 لاکھ 50 ہزار روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 2 گاڑیوں کو 15 لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان بھی پہنچا۔
کمیٹی نے اس کے علاوہ کے پی ہاؤس میں کمروں کے دروازوں، شیشوں اور فیملی روم کے نقصان کا بھی تخمینہ لگایا ہے، جس کے مطابق ان نقصانات کی مالیت بھی قابل ذکر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ اسٹاف کا اسلحہ اور دیگر سامان بھی غائب ہوا، جس کا تخمینہ 40 لاکھ روپے سے زائد ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی نے کمیٹی کی رپورٹ کو منظور کرتے ہوئے اس میں دی گئی معلومات کو اہم قرار دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس پولیس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر جو مالی نقصان ہوا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چھاپے کے دوران حکومتی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ 5 اکتوبر 2024 کا ہے، جب پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا قافلہ اسلام آباد پہنچا تھا اور وہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ اس پر پولیس اور رینجرز نے کے پی ہاؤس پر چھاپہ مارا، تاہم علی امین گنڈا پور 24 گھنٹے تک روپوش رہے اور پھر منظر عام پر آئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات نے حکومت کی کارروائی کے طریقہ کار اور اس کے اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

Leave a Reply