تھائی لینڈ کے ایک معروف ہاتھی نگہداشت مرکز میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس میں ایک ہسپانوی خاتون سیاح ہاتھی کے حملے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ جمعے کو “کو یاؤ ایلیفینٹ کیئر سینٹر” میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق خاتون سیاح 22 سالہ قانون اور بین الاقوامی تعلقات کی طالبہ تھیں، جو اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت تائیوان میں مقیم تھیں اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تھائی لینڈ کی سیاحت پر آئی تھیں۔
خاتون سیاح ہاتھیوں کے ساتھ سیاحوں کو مل کر کام کرنے کے ایک پیکیج میں شامل ہوکر ہاتھی کو نہلا رہی تھیں، جب اچانک ایک خوفزدہ ہاتھی نے حملہ کر دیا۔ مقامی پولیس کے مطابق ہاتھی سیاحوں کے ساتھ مسلسل میل جول اور قدرتی ماحول سے باہر رہنے کی وجہ سے خوف کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ صورتحال ہاتھی کے تناؤ کی علامت تھی، اور اس کے نتیجے میں اس نے حملہ کیا۔
ہاتھیوں کو نہلانا تھائی لینڈ میں سیاحوں کی ایک مشہور سرگرمی ہے، جسے بہت سے سیاح ایک یادگار تجربہ سمجھتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں تقریباً 4 ہزار جنگلی ہاتھی موجود ہیں اور اتنی ہی تعداد میں ہاتھی قید میں بھی رکھے جاتے ہیں۔ “کو یاؤ ایلیفینٹ کیئر سینٹر” میں سیاحوں کے لیے مختلف پیکیجز دستیاب ہیں، جن میں ہاتھیوں کو کھانا دینا، نہلانا، اور ان کے ساتھ چہل قدمی کرنا شامل ہے۔ یہ سرگرمیاں عام طور پر 1900 سے 2900 تھائی بھات (تقریباً 55 سے 84 امریکی ڈالر) میں دستیاب ہوتی ہیں۔
تاہم جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اس قسم کی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں ہاتھیوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالتیں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ہاتھیوں کو اس طرح سیاحوں کے ساتھ مشغول کرنا ان کے قدرتی رویوں میں مداخلت کرتا ہے اور ان کی ذہنی حالت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ہاتھی کی اس خوفناک حالت کی وجہ اس کا ماحول سے بے گانہ ہونا اور مسلسل سیاحوں سے میل جول تھا۔ جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہاتھیوں کو قدرتی ماحول میں آزادانہ طور پر رہنے کی اجازت دینی چاہیے، جہاں وہ خوف اور تناؤ سے بچ سکیں۔
یہ واقعہ تھائی لینڈ میں ہاتھیوں کی سیاحت کے شعبے میں نئے سوالات اٹھاتا ہے، جہاں ہاتھیوں کے ساتھ سیاحوں کی قربت کے نتیجے میں اس قسم کے حادثات کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ اس واقعہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سیاحوں کو ہاتھیوں کے ساتھ اس طرح کی سرگرمیاں کرنے سے پہلے ان کے فلاحی اور ذہنی معیار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Leave a Reply